لمبے گنے بالوں والی چڑیل
لمبے گنے بالوں والی چڑیل
*لمبے گھنے بالوں والی چڑیل*
میرا نام زویا ہے اور میں گاؤں جھنگور کے سرکاری سکول میں ٹیچر ہوں۔ سکول گاؤں سے دو کلومیٹر باہر ہے، اور واپسی کا راستہ ایک پرانے پیپل کے درخت کے پاس سے گزرتا ہے۔ گاؤں والے کہتے ہیں شام کے بعد اس راستے سے کوئی اکیلا نہ جائے، کیونکہ وہاں "لمبے گھنے بالوں والی چڑیل" رہتی ہے۔
میں کبھی ان باتوں پر یقین نہیں کرتی تھی۔ لیکن پچھلے مہینے سے ہر شام 6 بجے سکول سے نکلتے وقت مجھے پیپل کے درخت کے نیچے کسی کے رونے کی آواز آتی تھی۔ آواز اتنی دھیمی ہوتی کہ لگتا جیسے ہوا میں گھل رہی ہو۔
ایک دن میں چپکے سے درخت کے پیچھے گئی۔ وہاں کوئی نہیں تھا، بس زمین پر لمبے کالے بال بکھرے پڑے تھے۔ اتنے لمبے کہ زمین سے گھسیٹتے ہوئے درخت کے تنے پر چڑھ رہے تھے۔ میں نے اوپر دیکھا تو دل رک سا گیا۔
درخت کی سب سے اونچی شاخ پر ایک لڑکی الٹی لٹک رہی تھی۔ اس کے بال زمین تک آ رہے تھے، چہرہ بالوں میں چھپا تھا، اور پاؤں ہوا میں جھول رہے تھے۔ میں نے پوچھا "کون ہو تم؟"
اس نے سر اٹھایا۔ چہرہ سفید، آنکھیں پوری کالی، اور منہ سے خون ٹپک رہا تھا۔ وہ بولی "میں سیمی ہوں… میری شادی سے ایک رات پہلے میرے منگیتر نے میرے بالوں میں رسی باندھ کر مجھے اسی درخت سے لٹکا دیا تھا۔ اب میں ہر اس لڑکی کو بلاتی ہوں جو رات کو اکیلی نکلتی ہے۔"
میری ٹانگیں کانپنے لگیں۔ میں پیچھے مڑی تو راستہ غائب تھا۔ چاروں طرف صرف گھنے کالے بال تھے جو میرے پیروں کے گرد لپٹ رہے تھے۔ اس نے ہنس کر کہا "تم بھی میرے جیسے اکیلی مر جاؤ گی۔"
میں نے زور سے "یا اللہ" پکارا اور آنکھیں بند کر لیں۔ جب آنکھیں کھولیں تو میں سکول کے صحن میں تھی۔ ہاتھ میں اب بھی اس کے کچھ کالے بال تھے۔
گاؤں والے کہتے ہیں سیمی کی لاش آج بھی پیپل کے درخت کی جڑوں میں دبی ہے، اور جو بھی اس کے بالوں کو چھو لے، وہ تین رات کے اندر اسی درخت پر لٹک جاتی ہے۔
کل رات میں نے خواب میں دیکھا کہ سیمی میرے کمرے میں کھڑی ہے۔ اس کے بال میرے بستر پر پھیل رہے ہیں۔ اس نے کہا "تیسری رات آج ہے زویا۔"
میں جاگ گئی اور دیکھا کہ میرے بال خود بخود کھنچ رہے ہیں، جیسے کوئی پیچھے سے کھینچ رہا ہو۔
اب میں سمجھ گئی ہوں کہ لمبے گھنے بالوں والی چڑیل کسی کو نہیں چھوڑتی۔
اگر آج کے بعد میری آواز بند ہو جائے، تو سمجھ لینا کہ میں بھی پیپل کے درخت پر ہوں۔
*کہانی ختم*

