STORYMIRROR

Iqra Shaheen

Romance

4  

Iqra Shaheen

Romance

جب اس نے کہا میں تمہاری نہیں ہوں

جب اس نے کہا میں تمہاری نہیں ہوں

5 mins
3

*جب اس نے کہا "میں تمہاری نہیں ہوں"* *شروع:* پانچ سال کا رشتہ تھا ہمارا۔ کالج کے پہلے دن کینٹین کی لائن میں میری اس سے ٹکر ہوئی تھی۔ اس کے ہاتھ سے کافی گر گئی تھی اور میری سفید شرٹ پر داغ لگ گیا تھا۔ اس دن اس نے سو بار معافی مانگی تھی۔ میں غصہ ہونے کے بجائے ہنس پڑا تھا۔ شائد اسی دن سے سب شروع ہوا تھا۔ اس کا نام ماہا تھا۔ نام ہی ایسا تھا کہ دل کو سکون ملتا تھا۔ پڑھائی میں تیز، باتوں میں سنجیدہ، اور جب ہنستی تھی تو دنیا رک جاتی تھی۔ ہم ساتھ پڑھتے، ساتھ پروجیکٹ کرتے، ساتھ ہی دیر رات تک لائبریری میں بیٹھتے۔ دوست کہتے تھے، "تم دونوں تو شادی کر لو، کیا ڈرامہ چل رہا ہے۔" ہم ہنس دیتے۔ تب ہمیں بھی نہیں پتا تھا کہ دوستوں کی مذاق ایک دن سچ ہو جائے گی۔ گریجویشن کے بعد دونوں کی نوکری لگ گئی۔ میں لاہور، وہ اسلام آباد۔ فاصلہ بڑھا لیکن فون پر باتیں کم نہ ہوئیں۔ رات کے دو بجے تک باتیں کرنا ہماری عادت بن گئی تھی۔ وہ کہتی تھی، "اگر تم تھک جاؤ تو سو جانا، میں اکیلے بات کر لوں گی۔" اور میں کبھی سو نہیں پاتا تھا۔ اس کی آواز میں وہ سکون تھا جو نیند سے بھی بہتر لگتا تھا۔ تین سال بعد میں نے گھر میں بات کی۔ امی ابو کو ماہا پسند تھی۔ ماہا کے گھر والے پہلے تھوڑا ہچکچائے، لیکن پھر مان گئے۔ منگنی ہوئی، تاریخ طے ہوئی۔ میں سوچتا تھا اس سے بہتر کچھ نہیں ہو سکتا۔ جو لڑکی پانچ سال سے میری ہر غلطی سہ رہی ہے، وہ اب میری بیوی بنے گی۔ شادی ہوئی۔ پہلا مہینہ تو خواب سا لگا۔ صبح اس کی چائے، رات کو اس کا ساتھ، چھٹی والے دن لمبی ڈرائیو۔ ماہا نے کبھی شکایت نہیں کی۔ لیکن دوسرے مہینے سے وہ تھوڑی چپ رہنے لگی۔ میں پوچھتا تو کہتی، "کچھ نہیں، تھکن ہے۔" ایک رات ایک بجے میری نیند کھلی۔ ماہا بستر پر نہیں تھی۔ میں باہر گیا تو دیکھا وہ بالکنی میں کھڑی ہے، آنکھوں میں آنسو۔ میں نے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ وہ چونک گئی۔ میں نے کہا، "کیا ہوا ماہا؟ تم رو رہی ہو؟" وہ کچھ دیر چپ رہی۔ پھر آہستہ سے بولی، "احمد، مجھے معاف کر دو۔" میرا دل دھڑکنا بھول گیا۔ "کیوں؟ کیا ہوا؟" اس نے میری آنکھوں میں دیکھا۔ ان آنکھوں میں وہ ماہا نہیں تھی جسے میں پانچ سال سے جانتا تھا۔ "میں تم سے کبھی محبت نہیں کرتی تھی احمد۔ میرے گھر والوں نے کہا، لڑکا اچھا ہے، سرکاری نوکری ہے، مت کھونا۔ میں نے سوچا آہستہ آہستہ ہو جائے گا۔ لیکن نہیں ہوا۔ میں جھوٹ نہیں جی سکتی۔" اس وقت میرے پیروں تلے زمین کھسک گئی۔ پانچ سال۔ اٹھارہ سو پچیس دن۔ ہزاروں راتیں، ہزاروں وعدے، سب ایک پل میں جھوٹ لگنے لگے۔ میں نے پوچھا، "تو یہ پانچ سال؟ وہ فون، وہ ملاقاتیں، وہ آنسو جب میں بیمار تھا؟" ماہا کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ "مجھے تم انسان کے طور پر اچھے لگتے تھے احمد۔ بہت اچھے۔ اسی لیے منع نہیں کر پائی۔ مجھے لگا محبت ہو جائے گی۔ لیکن نہیں ہوئی۔" اس رات ہم دونوں سوئے نہیں۔ صبح ہوتے ہوتے اس نے کہا، "میں میکے جا رہی ہوں۔ تم فیصلہ کر لو۔" میں نے فیصلہ کر دیا۔ فیصلہ یہ کہ کسی کو زبردستی روکنا محبت نہیں ہوتی۔ طلاق کے کاغذ چار مہینے میں آ گئے۔ ماہا چلی گئی۔ اور میں رہ گیا، اس گھر میں جہاں ہر کونے میں اس کی یاد تھی۔ لوگ کہتے ہیں وقت سب ٹھیک کر دیتا ہے۔ جھوٹ ہے۔ وقت کچھ ٹھیک نہیں کرتا۔ وقت بس تمہیں سکھا دیتا ہے کہ بغیر ٹھیک ہوئے کیسے جینا ہے۔ پہلا سال میں دفتر اور گھر کے علاوہ کہیں نہیں گیا۔ دوست بلاتے تھے، میں منع کر دیتا۔ امی کہتی تھیں، "کھا تو لو بیٹا۔" میں کھا لیتا، لیکن ذائقہ نہیں آتا تھا۔ دوسرے سال میں نے سفر شروع کیا۔ اکیلے۔ سوچا شاید کہیں جا کر بھول جاؤں۔ مری کی برف میں، کراچی کے سمندر میں، لاہور کی شام میں... ہر جگہ مجھے ماہا دکھتی تھی۔ شاید اس لیے کہ میں نے ہر خوشی اس کے ساتھ بانٹنے کی عادت ڈال لی تھی۔ تیسرے سال مجھے سمجھ آیا کہ ماہا نے غلط نہیں کیا۔ غلط یہ ہوتا اگر وہ زندگی بھر جھوٹ نبھاتی۔ کم از کم اس نے دو مہینے میں سچ بول دیا۔ کتنے لوگ تو بیس سال بعد کہتے ہیں۔ آج تین سال ہو گئے ہیں۔ میں اب پہلے جیسا نہیں ہوں۔ خاموش ہوں، اکیلا ہوں، لیکن ٹوٹا نہیں ہوں۔ کل رات پھر اس کا میسج آیا۔ "کیسے ہو احمد؟" میں نے جواب نہیں دیا۔ کچھ رشتے پورے کرنے کے لیے نہیں ہوتے۔ کچھ رشتے تمہیں توڑنے آتے ہیں، تاکہ تم خود کو بنا سکو۔ ماہا نے میرا دل توڑ دیا تھا۔ لیکن اسی ٹوٹنے میں نے خود کو پایا تھا۔ اور شاید یہی محبت ہے۔ محبت ہمیشہ ساتھ رہنے کا نام نہیں ہوتی۔ کبھی کبھی محبت چھوڑ دینے کا نام بھی ہوتی ہے۔ اب جب کوئی پوچھتا ہے، "شادی کیوں نہیں کر لیتے؟" میں بس مسکرا دیتا ہوں۔ کیونکہ میں جانتا ہوں، ہر مسکراہٹ کے پیچھے سچ نہیں ہوتا۔ اور ہر سچ کے پیچھے، محبت نہیں ہوتی۔ *اختتام:* آج بھی جب بارش ہوتی ہے، میں بالکنی میں کھڑا ہو جاتا ہوں۔ ہاتھ میں چائے کا کپ ہوتا ہے، اور دل میں ایک نام۔ ماہا۔ نفرت نہیں ہے۔ شکایت نہیں ہے۔ بس ایک خاموش سی یاد ہے جو کبھی جاتی نہیں۔ اور میں سیکھ گیا ہوں کہ کچھ لوگ تمہاری زندگی میں آتے ہیں تمہیں مکمل کرنے کے لیے نہیں، بلکہ تمہیں یہ سکھانے کے لیے کہ تم خود ہی کافی ہو۔


Rate this content
Log in

Similar english story from Romance