مجھے شکوہ نہیں نصیب سے
مجھے شکوہ نہیں نصیب سے
مجھے شکوہ نہیں نصیب سے
رات کے 2:47 بج رہے تھے۔
کمرے میں اندھیرا تھا، بس میز پر پڑی ڈائری پر ٹیبل لیمپ کی ہلکی روشنی پڑ رہی تھی۔
میں نے قلم اٹھایا، ہاتھ کانپ رہے تھے۔ آنسو گالوں پر بہہ رہے تھے، مگر میں نے روکنے کی کوش نہیں کی۔
کیونکہ آج پہلی بار میں نے فیصلہ کیا کہ میں اپنے دل کا بوجھ کاغذ پر اتار دوں گی۔
میرا نام مہرین ہے۔
میں 26 سال کی ہوں۔
اور آج میں نے اپنے پیار کو دفن کر دیا۔
پہلی بار دل دھڑکا تھا
میں جب 19 سال کی تھی، یونیورسٹی کے پہلے سال میں، میری زندگی سیدھی لائن پر چل رہی تھی۔
گھر، کالج، لائبریری۔ بس۔
محبت، شادی، یہ سب میرے لیے فلموں کی باتیں تھیں۔
پھر ایک دن کینٹین میں ٹکر ہو گئی۔
کتابیں زمین پر گریں، اور ان کے ساتھ میرا دل بھی۔
وہ تھا عدنان۔
لمبا، سنجیدہ، آنکھوں میں ایک عجیب سی تھکن۔
اس نے جھک کر میری کتابیں اٹھائیں اور کہا: "سوری، دیکھا نہیں۔ تم ٹھیک ہو؟"
میری آواز نہیں نکلی۔ بس سر ہلا دیا۔
اس دن کے بعد میں جان بوجھ کر اسی وقت کینٹین جاتی تھی۔
نہیں، میں نے کبھی کہا نہیں کہ میں اسے دیکھنے جاتی ہوں۔
میں خود کو بھی دھوکہ دیتی رہی۔
دوستی سے آگے
ہماری دوستی آہستہ آہستہ بڑھی۔
پہلے پروجیکٹ، پھر گروپ اسٹڈی، پھر رات 12 بجے تک میسج۔
عدنان کم بولتا تھا، مگر جب بولتا تھا تو ہر لفظ دل میں اتر جاتا تھا۔
ایک رات اس نے کہا: "مہرین، تمہیں پتا ہے تمہاری سب سے بڑی خوبی کیا ہے؟"
میں نے پوچھا: "کیا؟"
اس نے کہا: "تم ہر کسی کو سمجھنے کی کوش کرتی ہو۔ حتیٰ کہ مجھے بھی، جو خود کو بھی نہیں سمجھتا"۔
اس رات میں سو نہیں سکی۔
مجھے لگ رہا تھا، شاید یہ محبت ہے۔
مگر میں نے کہا نہیں۔
کیونکہ لڑکیاں پہلے نہیں کہتیں۔
اور کیونکہ مجھے ڈر تھا، اگر اس نے انکار کر دیا تو دوستی بھی چلی جائے گی۔
وہ رات جب سب بدل گیا
تیسرے سال کے آخر میں، فائنل پریزنٹیشن سے ایک رات پہلے، عدنان کا میسج آیا:
"مہرین، مل سکتی ہو؟ چھت پر۔ ابھی۔"
میں گئی۔
آسمان پر پورا چاند تھا۔
عدنان دیوار سے ٹیک لگائے کھڑا تھا۔ اس کے ہاتھ میں میری دی ہوئی پرانی ڈائری تھی۔
اس نے کہا: "میں نے سب پڑھ لیا مہرین"۔
میرا دل ڈوب گیا۔
"تم لکھتی تھی کہ تم مجھے پسند کرتی ہو؟"
میں نے آنکھیں بند کر لیں۔
"ہاں"۔
اس نے میرا ہاتھ پکڑا۔ پہلی بار۔
"میں بھی۔ بہت پہلے سے۔ بس ڈرتا تھا"۔
اس رات ہم نے کوئی وعدہ نہیں کیا۔
بس ایک دوسرے کے ماتھے پر ہاتھ رکھا اور کہا: "ہم ساتھ ہیں"۔
مجھے لگا، زندگی سے زیادہ کچھ نہیں چاہیے۔
جدائی کی پہلی چوٹ
گریجویشن کے 6 مہینے بعد عدنان کے ابا کا ایکسیڈنٹ ہو گیا۔
فیملی کا واحد سہارا وہ تھا۔
اس نے جاب کر لی، شہر چھوڑ دیا، اور مجھے کہا: "مہرین، ابھی رشتے کی بات نہیں کر سکتا۔ پہلے امی ابا کو سنبھالوں"۔
میں نے کہا: "ٹھیک ہے۔ میں انتظار کر لوں گی"۔
2 سال انتظار کیا۔
ہر عید پر میسج، ہر برتھ ڈے پر کال۔
مگر ملاقاتیں کم ہوتی گئیں۔
اس کے میسج چھوٹے ہوتے گئے۔
"Busy hoon", "Baad mein baat karte hain", "Sona hai"۔
میں سمجھ گئی، مگر مانا نہیں۔
وہ دن جب زمین پھٹ گئی
ایک دن میری سہیلی کا میسج آیا:
"مہرین، عدنان کی منگنی ہو گئی ہے۔ فیس بک پر پکچر لگی ہے"۔
میں نے دیکھا۔
عدنان مسکرا رہا تھا، ساتھ ایک لڑکی تھی۔
کیپشن تھا: "Alhamdulillah, Engaged"۔
میرے ہاتھ سے موبائل گر گیا۔
سانس رکنے لگی۔
میں نے اسے کال کی۔
اس نے اٹھایا نہیں۔
میسج کیا: "Mujhe maaf kar do Mahrin. Ghar walon ne zor diya. Main inkar na kar saka"۔
بس اتنا۔
2 سال کا انتظار، 4 سال کی محبت، ایک لائن میں ختم۔
اس رات میں نے پہلی بار خودکشی کے بارے میں سوچا۔
مگر میری امی کا چہرہ سامنے آ گیا۔
میں مر گئی تو وہ کیسے جئیں گی؟
مرنے سے بدتر جینا
لوگ کہتے ہیں وقت سب ٹھیک کر دیتا ہے۔
جھوٹ ہے۔
وقت صرف یہ سکھاتا ہے کہ ٹوٹے ہوئے دل کے ساتھ کیسے سانس لینی ہے۔
میں نے جاب کر لی۔
ہنستی ہوں، ملتی ہوں، بات کرتی ہوں۔
مگر رات کو جب کمرے کا دروازہ بند ہوتا ہے، میں ٹوٹ جاتی ہوں۔
میں نے عدنان کی ہر چیز ڈیلیٹ کر دی۔
مگر اس کی یاد؟
وہ ڈیلیٹ نہیں ہوتی۔
ہر گانے میں اس کی آواز آتی ہے۔
ہر بارش میں اس کا چہرہ نظر آتا ہے۔
ہر شادی میں میرا دل بیٹھ جاتا ہے۔
آج
آج 4 سال ہو گئے ہیں۔
عدنان کی شادی ہو گئی، بچہ بھی ہے۔
میں نے فیس بک بلاک کر دی۔
لوگ کہتے ہیں: "شادی کر لو مہرین۔ عمر نکل رہی ہے"۔
میں مسکرا دیتی ہوں۔
کیا بتاؤں کہ میرا دل کسی اور کے پاس ہے، جو واپس نہیں آئے گا؟
میں نے لکھنا شروع کیا۔
یہی ڈائری میرا سہارا ہے۔
آج میں نے آخری صفحہ لکھا:
"عدنان،
مجھے شکوہ نہیں نصیب سے۔
تم نے مجھے توڑا نہیں، تم نے مجھے بنایا ہے۔
اگر تم نہ جاتے، تو میں کبھی نہ جانتی کہ میں اکیلی بھی جی سکتی ہوں۔
میں نے تمہیں چاہا، یہ میری مرضی تھی۔
تم نے چھوڑا، یہ تمہاری مجبوری تھی۔
دونوں میں کوئی غلط نہیں تھا۔
بس درد زیادہ تھا۔
اتنا زیادہ کہ لگتا تھا سانس نہیں آئے گی۔
مگر آ رہی ہے۔
اور اب میں جینا سیکھ گئی ہوں۔
نہ تمہارے لیے، نہ تمہارے بغیر۔
بس اپنے لیے۔
اگر کبھی ہم ملیں،
تو میں تمہیں دیکھ کر مسکراؤں گی۔
کیونکہ تم میری کہانی کا وہ حصہ ہو،
جس نے مجھے ہیرو بنا دیا"۔
میں نے ڈائری بند کی۔
باہر فجر کی اذان ہو رہی تھی۔
پہلی بار مجھے لگا، اندھیرا ختم ہو رہا ہے۔
محبت ختم نہیں ہوتی مہرین۔
بس اس کا روپ بدل جاتا ہے۔
پہلے وہ شخص تھا، اب وہ سکون ہے۔
ختم
